30+ Kafan Shayari 2 Lines - Kafan Shayari

 Kafan Shayari 2 Lines



kafan shayari
kafan shayari

آج پھر وہ نکلے ہیں بے نقاب شہر میں
آج پھر کفن کی دکان پر رش ہوگا


kafan shayari
kafan shayari

بُلا دو اس کو اخری دیدار کرنے کیلئے
کفن سر پر ہے جا رہی ہوں عمر بھر کیلئے


kafan shayari
kafan shayari

جن پر لُٹا چُکا تھا میں دنیا کی رونقیں
اُن وارثوں نے مجھ کو کفن ناپ کر دیا


kafan shayari 2 lines
kafan shayari

غرور کس بات کا ہے صاحب
جو کفن ہمارا ہے وہی تمہارا بھی ہے


kafan shayari 2 lines
kafan shayari


سنے جاتے نہ تھے تم سے مرے دن رات کے شکوے
کفن سرکاؤ میری بے زبانی دیکھتے جاؤ


Kafan Poetry sms


قدر کرنی ہے تو زندگی میں کرو
چہرے سے کفن اٹھاتے وقت تو نفرت کرنے والے بھی رُو پڑتے ہیں


یہ جسم خاک ہو تیرے در پر اُڑا کرے
تیرے شہیدِ عشق کو گور و کفن سے کیا


کفن پہن لیا میرے الفاظ کے بہتے اشکوں نے
شاعری میری نے رُولایا تو بہت پر تجھے یقین نہ آیا


Kafan sad poetry

جو دکھ بچ جائیں ، میرے کفن پر لکھ دینا


دفن پر شاعری مکمل ہوئی کل کفن پر شاعری ہوگی


دعا کرو اس عید پر خدا اپنے پاس لے جائے
اس عید پہ مجھے تحفہ میں کفن مل جاۓ 


بسنتی قبا پر ترے مر گیا ہے
کفن میر کو دیجیو زعفرانی


Mera kafan shayari

جو رہ گئے ہوں الزام
میرے کفن پر لکھ دینا


ڈالنا میری لاش پر کفن اپنے ہاتھوں سے
کہیں تیرے دیے ہوئے زخم کوئی اور نہ دیکھ لے


کفن نہ ڈالو میرے چہرے پر
مجھے عادت ہے مسکرانے کی
آج کی رات مجھے نہ دفنا ہو یارو
کل امید ہے اس کے آنے کی


جب وہ آئے تو کفن نہ اٹھانا میری لاش پر سے
اسے بھی تو پتہ چلے یار سے بات نہ ہو تو دن کیسے گزرتے ہیں

ہمیں دنیا سے کیا مطلب مدرسہ ہے وطن اپنا
مریں گے ہم کتابوں پر ورق ہوگا کفن اپنا


دنیا بہت مطلبی ہے ساتھ کوئی کیوں دے گا
مفت کے یہاں کفن نہیں ملتا تو بغیر غم کی محبت کون دے گا


زندگی میں لوگ دکھ کے سوا دے بھی کیا سکتے ہیں
مرنے کے بعد کفن دیتے ہیں وہ بھی رو رو کے


تیرے دل کو سجائیں گے اپنے ارمان دے کر
تیرے لبوں کو ہنسائیں گے اپنی مسکان دے کر
تجھے کفن سے اٹھائیں گے
تیرے جسم میں اپنی جان دے کر


کفن نہ ڈالو میری لاش پر مجھے عادت ہے مسکرانے کی
نہ اٹھاؤ میرا جنازہ مجھے امید ہے کسی کے آنے کی


نکلے تھے علم کی راہ پر
کیا پتا تھا کفن میں واپس لوٹیں گے


چوم کر میرے کفن کو اس نے کیا خوب کہا
نیا کپڑا کیا پہن لیا اب دیکھتے بھی نہیں


میری ماں نے مجھ کو نصیحت کی تھی
کفن پہن کے آ جانا مگر ہار کر مت آنا


میرے مرنے کے بعد میری کہانی لکھنا
کیسے برباد ہوئی میری جوانی لکھنا
اور لکھنا کہ میرے ہونٹ خوشی کو ترسے
کیسے برسا میری آنکھوں سے پانی لکھنا
اور لکھنا کہ اسے انتظار تو بہت تھا تیرا
آخری سانسوں میں وہ ہچکیوں کی روانی لکھنا
لکھنا کہ مرتے وقت بھی دیتا تھا دعا تجھ کو
ہاتھ باہر تھے کفن سے یہ نشانی لکھنا


کفن میرا ہوگا انہی کا دوپٹہ
بڑی دھوم سے میری میت اٹھے گی


میرا ہر لفظ تیری ہر بات سے اچھا ہوگا
میرا ہر دن تیری ہر رات سے اچھا ہوگا
یقین نہ آئے اگر تو کفن اٹھا کے دیکھ لینا
میرا جنازہ تیری بارات سے اچھا ہوگا


دور نہیں وہ لمحہ اب
جب ہمارے لیے بھی کفن خریدا جائے گا


ہمیں کیا پتا تھا کہ زندگی اتنی انمول ہے
کفن اوڑھ کر دیکھا تو نفرت کرنے والے بھی رو رہے تھے


دل جگر آنکھ کفن اشک محبت آہیں
سارا گھر بار سمیٹیں گے چلے جائیں گے


آ جانا تم کچھ ہی پل کی تو بات ہوگی
وضو ___، کفن ___،  دعا ____، دفن


ایک دن کفن میں لپٹ کر سو جاؤں گا اے مخالفو
پھر رؤ گے ہم سے بات کرنے کے لیے




Post a Comment

0 Comments