Khamoshi Poetry | Khamoshi Poetry In Urdu

Khamoshi Poetry In Urdu



Khamoshi Poetry | Khamoshi Poetry In Urdu
khamoshi poetry


ایسا خاموشی کا عالم ہوگا ہمارے جانے کے بعد
ہو کر اداس پرندے بھی تیرا شہر چھوڑ جائیں گے


Khamoshi Poetry | Khamoshi Poetry In Urdu
khamoshi poetry


میرے راز داں بس کبھی کبھی
میری خاموشی سے کلام کر


Khamoshi Poetry | Khamoshi Poetry In Urdu
khamoshi poetry


کس خاموشی سے ٹوٹ گئے اس سے رابطے
کس خاموشی سے سہہ گیا سارے عذاب دل


Khamoshi poetry
khamoshi poetry


یہ رات کی خاموشی یہ عالمِ تنہائی
پھر درد اٹھا دل میں پھر یاد تیری آئی



اظہار پہ بھاری ہے خاموشی کا تکلم
حرفوں کی زباں اور ہے آنکھوں کی زباں اور



یہ رات کی خاموشی یہ عالمِ تنہائی
پھر درد اٹھا دل میں پھر یاد تیری آئی



کوئی تو ہو جو گھبرائے میری خاموشی سے
کسی کو تو سمجھ آئے میرے لہجے کا دکھ


خاموشی بھی ایک نشہ ہے دوست
آج کل میں فل نشے میں ہوں


کن لفظوں میں لکھوں میں تیرے انتظار کو
بے زبان عشق میرا ڈھونڈتا ہے خاموشی سے تجھے


اپنے خلاف باتیں خاموشی سے سنتی ہوں
جواب دینے کا حق وقت کو دے رکھا ہے


میں اسے گفتگو سے جیت لیتا لیکن
بزمِ یار میں خاموشی شرطِ اول تھی



لفظوں کے کچھ کنکر پھینکو
جھیل سی گہری خاموشی ہے



خاموشی سے جب بھر جاؤ گے
چیخ لینا ورنہ مر جاؤ گے


خاموشی کا ادب کرو
یہ آوازوں کی مرشد ہے



خاموشی لب پہ نگاہوں میں عقیدت رکھ لی
عشق کے در سے جو بھی ملی نعمت رکھ لی


یہ خاموشی جو گفتگو کے بیچ ٹھہری ہے
یہی اِک بات ساری گفتگو میں گہری ہے 


دل اس قدر ٹوٹ چُکا ہے مرشد
کہ اب بس صرف خاموشی ہی اچھی لگتی ہے



مشکوک سی خاموشی ہے بے چین لبوں پر
حیران سی آنکھوں میں سوالات عجب ہیں



خاموشی سی ہیں رگ و پئے میں زوہیب
دل کو بھی عادت ہو گئی چپ رہنے کی


اعتبار توڑنے والے کے لیے بس یہی سزا کافی ہے
زندگی بھر کے لیے خاموشی اسے تحفے میں دی جائے


خاموشی اسے پسند تھی
ہم نے لفظوں کے گلے کاٹ دیئے


تیرے عشق پر ڈھلتے ہیں میرے شام کے قصے
خاموشی سے مانگی ہوئی دعا ہو تم



خاموشی تنہائی اذیت
میں مجموعہ ہوں ان لفظوں کا


دل کی خاموشی سے سانسوں کے ٹھہر جانے تک
یاد آئے گا مجھے وہ شخص مر جانے تک



جن کا عشق سچا ہو وہ کب فریاد کرتے ہیں
لبوں پہ خاموشی رکھتے ہیں اور دل میں یاد کرتے ہیں



کیوں اتر جاتے ہیں دل میں خاموشی سے
وہ لوگ جن سے مقدر کے ستارے نہیں ملتے


ہزاروں ہیں یہاں میرے لفظوں کے دیوانے
میری خاموشی سننے والا کوئی ہوتا تو کیا بات تھی


اچھا کرتے ہیں وہ لوگ جو محبت کا اظہار نہیں کرتے
خاموشی سے مر جاتے ہیں مگر کسی کو بد نام نہیں کرتے


وہ جو خاموشی نہیں سُن پایا
لفظ اب اس کا کیا بگاڑیں گے


نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
خاموشی سے ادا ہو رسمِ دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم




میں چپ رہا کہ وضاحت سے بات بڑھ جاتی
ہزار شیواِ حسنِ بیاں کے ہوتے ہوئے




کوئی دھواں اٹھا نہ کوئی روشنی ہوئی
جلتی رہی حیات بڑی خاموشی کے ساتھ



دوست بے شک ایک ہوں لیکن ایسا ہو
جو الفاظ سے زیادہ خاموشی کو سمجھے



کچھ دیر کی خاموشی ہے پھر شور آئے گا
تمہارا صرف وقت آیا ہے ہمارا دور آئے گا 




بہت خاموشی سے ___ٹوٹ گیا
وہ ایک بھروسہ جو تجھ پہ تھا



خاموشی بے وجہ نہیں ہوتی
درد آواز_____ چھین لیتا ہے




میری خاموشی سے تم ناراض مت ہوا کرو
حالات سے ہارے ہوئے لوگ اکثر خاموش رہتے ہیں



الگ بات ہے کہ خاموشی سے کھڑے ہیں کنارے پر
لیکن سب جانتے ہیں کون کتنے پانی میں ہے




یعنی یہ خاموشی بھی کسی کام کی نہیں
یعنی میں بیان کر کے بتاؤں کے اداس ہوں



میری خاموشی بھی شاید میرے بیان سے بہتر تھی
میں نے اپنا آپ گنوایا اپنا آپ بتانے میں



اتنی خاموشی اچھی نہیں جناب
کچھ بات کیجئے کچھ درد دیجئے



خاموشی بہت کچھ کہتی ہے
کان لگا کر نہیں دل لگا کر سنیں



آوازوں میں بیٹھے بیٹھے خاموشی سے مر جاتا ہوں
نیند ادھوری رہ جاتی ہے سوتے سوتے ڈر جاتا ہوں




Mujhy to hosh na tha unki bazm me lekin
Khamoshiyon ne meri unse kuch kalam kiya

مجھے تو ہوش نہ تھا ان کی بزم میں لیکن
خاموشیوں نے میری ان سے کچھ کلام کیا





Jab khamoshi hi bazm ka dastoor ho gai
Main aadmi se naqsh ba devaar ban gaya

جب خاموشی ہی بزم کا دستور ہو گئی
میں آدمی سے نقش بہ دیوار بن گیا





Shor jitna hay kaenat me shor
Mery andar ki khamoshi se howa

شور جتنا ہے کائنات میں شور
میرے اندر کی خاموشی سے ہوا




Raat meri aankhon me kuch ajeeb chehry thy
Aur kuch sadaen then khamoshi k paikar me

رات میری آنکھوں میں کچھ عجیب چہرے تھے
اور کچھ صدائیں تھیں خاموشی کے پیکر میں





Shor sa ek hr ek samt bapa lagta hay
Woh khamoshi hay keh lamha bhi sada lagta hay

شور سہ اک ہر اک سمت بپا لگتا ہے
وہ خاموشی ہے کہ لمحہ بھی صدا لگتا ہے




Meri arz e shauq be maani hay unke wasty
Unki khamoshi bhi ik paigham hay mery liye

میری عرضِ شوق بے معنی ہے ان کے واسطے
ان کی خاموشی بھی اک پیغام ہے میرے لیے





Ham na manengy khamoshi hay tamanna ka mizaaj
Han bhari bazm me wo na paai hogi

ہم نہ منائیں گے خاموشی ہے تمنا کا مزاج
ہاں بھری بزم میں وہ بول نہ پائی ہوگی





Woh bolta tha magr lab nahi hilata tha
Ishara karta tha jumbish na thi iahary me

وہ بولتا تھا مگر لب نہیں ہلاتا تھا
اشارہ کرتا تھا جنبش نہ تھی اشارے میں




Sunti rahi main sb k dukh khamoshi se
Kis ka dukh tha mery jaisa bhool gai

سنتی رہی میں سب کا دکھ خاموشی سے
کس کا دکھ تھا میرے جیسا بھول گئی




Ajeeb shoor machany lagy hain sannaty
Yeh kis tarah ki khamoshi hr ek sada me hay

عجیب شور مچانے لگے ہیں سناٹے
یہ کس طرح کی خاموشی ہر اک صدا میں ہے





Yeh hasil hay meri khamoshiyon ka
Keh patthar aazmany lag gaye hain

یہ حاصل ہے میری خاموشیوں کا
کہ پتھر آزمانے لگ گئے ہیں




Khuli zaban to zarf unka ho gaya zahir
Hazar bhed chupa rakhy thy khamoshi me

کھلی زبان تو ظرف ان کا ہوگیا ظاہر
ہزار بھید چھپا رکھے تھے خاموشی میں




Khamosh rahny ki aadat bhi maar deti hay
Tumhein ye zahr to andar se chaat jayga

خاموش رہنے کی عادت بھی مار دیتی ہے
تمہیں یہ زہر اندر سے چاٹ جائے گا




خاموشی اتنی گہری تو ہونی چاہیے
کہ بے قدری کرنے والوں کی چیخیں نکل جائیں



خاموشی جرم ہے اس دور میں بولنا سیکھو
ورنہ مٹ جاؤ گے حالات کے طوفانوں میں



ادب کیجیے ہماری خاموشی کا
سب کی اوقات چھپائے پھرتے ہیں




کبھی کبھی خاموشی تنہائی چائے کا کپ گہری سوچیں اور گھر کا من پسند کونا بہترین دوست بن جاتا ہے



لوگ شور سے جاگ جاتے ہیں
اور ہمیں کسی کی خاموشی سونے نہیں دیتی




دل چاہتا ہے کچھ ایسا لکھوں
لفظوں کی آہیں نکلے
 قلم سے خون ٹپکے
کاغذ پر درد بھی بھکرے
میری خاموشی ٹوٹے
پھر اذیت سے جان چھوٹے



وہ خاموشی میں بہت سے سوال کر گیا
ایسے سوال کے مجھ کو لاجواب کر گیا
بھری محفل سے وہ بیگانہ بن کر رخصت ہوا
جسم سے جسم اور روح سے روح کو جدا کر گیا
اب گلہ کروں تو کروں کس سے زاہد
وہ اپنی انا کے ہاتھوں مجھ کو فنا کر گیا
اس نے آنے کا عہد تو وفا کر دیا
وہ آیا پر جدائی کے کاغذ پر دستخط کر گیا



Khamoshi Quotes In Urdu



خاموشی اک ایسی عبادت ہے
فرشتہ اسے لکھ نہیں سکتا
شیطان اسے بگاڑ نہیں سکتا
اور اس رب کے سوا کوئی اسے جان نہیں سکتا


خاموشی سے کی گئی دعا اور محبت دونوں بہت طاقت رکھتی ہیں


کبھی کبھار خاموشی بہتر ہوتی ہے ان لفظوں سے ان لہجوں سے جنہیں سن کر دل کی گہرائیوں میں پھر دفن کرنا پڑتا ہے


خاموشی شکوہ نہیں بے بسی کی انتہا ہے



خاموشی میں راحت ہے
لفظوں کا سفر انسان کو تھکا دیتا ہے


سنو آہٹ نہ کرنا ، خاموشی بہت کچھ کہتی ہے ، کان لگا کر نہیں دل لگا کر سنو



ضمیر مرتا ہے احساس کی خاموشی سے
یہ وہ وفات ہے جس کی خبر نہیں ہوتی



خاموشی کا مطلب لحاظ بھی ہوتا ہے
لوگ اسے کمزوری سمجھ لیتے ہیں




خاموشی
خاموشی ایسا درخت ہے جس پر کڑوا پھل نہیں لگتا




جب خاموشی وجود پہ اترتی ہے تو انسان چاہتے ہوئے بھی گفتگو نہیں کر پاتا
انسان خود سے خاموشی نہیں اوڑھتا حالات و واقعات چپ کروا دیتے ہیں




کبھی کبھی خاموشی اچھی ہوتی ہے
جب انسان اپنی وُقعت کھو دے تو اس کے لیے بہترین پناہ خاموشی ہے کیونکہ
وضاحت کبھی سچا ثابت نہیں کر سکتی
ندامت کبھی نعم البدل نہیں ہو سکتی
الفاظ کبھی بھی انسان کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس نہیں لا سکتے ہاں خاموشی مزید تذلیل سے بچا لیتی ہے




 
ایک زمانہ آنے والا ہے جس میں عافیت کے دس اجزاء ہوں گے۔ ان میں سے نو حصے لوگوں سے تنہائی اختیار کرنے میں ہوں گے اور ایک حصہ خاموشی میں ( امام علی ع)




کتوں کی دوڑ کے مقابلے میں ایک مرتبہ ایک چیتے کو شامل کیا
لیکن تعجب کی بات یہ ہے
کہ جب مقابلہ شروع ہوا تو چیتا اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں
اور کتے اپنی پوری قوت کے ساتھ مقابلہ جیتنے کی کوشش کر رہے
‏چیتا خاموشی سے دیکھتا رہا
جب مالک سے پوچھا گیا کہ چیتے نے مقابلے میں شرکت کیوں نہیں کی تو اس نے دلچسپ جواب دیا
کبھی کبھی خود کو بہترین ثابت کرنا دراصل اپنی ہی توہیں ہوتی ہے
ہر جگہ خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی
بعض لوگوں کے سامنے خاموش رہنا ہی بہترین جواب ہوتا ہے
کتوں کے ساتھ کتے دوڑتے ہیں شیر اور چیتے نہیں
اس لیے ہمیں اگر خود پر یقین ہو کہ ہم بہترین ہیں تو اس کے لیے ضروری نہیں کہ ہم خود کو ثابت کرنے کے لئے کتوں کے ساتھ مقابلہ کر لیں بلکہ چپ رہ لیں۔

1-khamoshi poetry 
2-khamoshi poetry in urdu
3-khamoshi poetry urdu
4-teri khamoshi poetry
5-meri khamoshi poetry
6-khamoshi poetry images
7-chup poetry



Post a Comment

0 Comments