Qatil Poetry In Urdu | Qatil Poetry

Qatil Poetry



Qatil Poetry In Urdu | Qatil Poetry
qatil poetry

عشق ابھی پیش ہوا ہی تھا انصاف کی عدالت میں
سب دل بول اٹھے یہ قاتل ہے یہ قاتل ہے یہ قاتل ہے


Qatil Poetry In Urdu | Qatil Poetry
qatil poetry


لوگ ڈرتے ہیں قاتل کی پرچھائی سے مرشد
ہم نے قاتل کے دل میں بھی گھر کر لیا



نگاہ قاتل ادا قاتل زباں قاتل بیاں قاتل
بتا قاتل کہاں جاؤں جہاں جاؤں وہاں قاتل



یوں نہ دیکھیے ان کا قاتل نظروں سے سرکار
دل پہلے ہی آپ پر قربان ہے




قتل کرنے کی ادا بھی حسیں قاتل بھی حسیں
نہ بھی مرنا ہو تو مر جانے کو جی چاہے گا




جان جب پیاری تھی تو دشمن ہزاروں تھے
اب مرنے کا شوق ہے قاتل نہیں ملتا



قتل ہوئے ہم اس طرح سے قسطوں میں
کبھی خنجر بدل گئے کبھی قاتل بدل گئے



اس کے تِل پے یوں بہکے بہکے سے تصورات تھے
میرے کیا یہ تِل ہے ہاں تِل ہے کیا تِل ہے قاتل ہے



Khuda k wasty is ko na toko
Yahi ik shahr me qatil rha hay

خدا کے واسطے اس کو نہ ٹوکو
یہی اِک شہر میں قاتل رہا ہے



Keh mery qatl k baad usne jafa se tauba
Haay us zud pashiman ka pashiman hona

کہ میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہاے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا




Mery hony me kesi taur se shamil ho jao
Tum masiha nahi hoty ho to qatil ho jao

میرے ہونے میں کسی طور سے شامل ہو جاؤ
تم مسیحا نہیں ہوتے ہو تو قاتل ہو جاؤ



Qatil ne kis safai se dhoi hay asteen
Usko khabar nahi k lahu bolta bhi hay

قاتل نے کس صفائی سے دھوئی ہے آستیں
اس کو خبر نہیں کہ لہو بولتا بھی ہے




Qatl ho to mera sa maut ho to meri si
Mery sogvaron me aaj mera qatil hay

قتل ہو تو میرا سا موت ہو تو میری سی
میرے سوگواروں میں آج میرا قاتل ہے



Yon na qatil ko jb yaqeen aaya
Ham ne dil khol kr dikhai choot

یوں نہ قاتل کو جب یقین آیا
ہم نے دل کھول کر دکھائی چوٹ



Ye sach hay chand lamhon k liye bismil tadapta hay
Phir is k baad saari zindagi qatil tadapta hay

یہ سچ ہے چند لمحوں کے لئے بسمل تڑپتا ہے
پھر اس کے بعد ساری زندگی قاتل تڑپتا ہے



Shahr k aain me ye mad bhi likhi jaegi
Zinda rahna hay to qatil ki sifarish chahiye

شہر کے آئین میں یہ مدَ بھی لکھی جائے گی
زندہ رہنا ہے تو قاتل کی سفارش چاہیے




قاتل ہے کون اس کا مجھے کچھ پتہ نہیں
میں پھنس گیا ہوں لاش سے خنجر نکال کر



اپنے من چاہے انسان کی کمی
تمام راحتوں کی قاتل ہوتی ہے



تمہیں آہ لگے گی محترمہ
تم میری مسکراہٹ کی قاتل ہو



کمسنی کا حسن تھا وہ یہ جوانی کی بہار
تھا یہی تِل پہلے بھی رُخ پر مگر قاتل نہ تھا




قاتل نے خنجر سے خود کفیل مارے
حاکم نے لفظوں سے لواحقین مارے



میری میت کو رکھ کے چھاؤں میں
میرا قاتل سراغ چھوڑ گیا



حسن تیرا بھی قاتل ہوگا لیکن
مسکراہٹ ہم بھی کمال رکھتے ہیں




Post a Comment

0 Comments