Best Of Khalil Ur Rehman Qamar Poetry

 Khalil Ur Rehman Qamar Poetry


khalil ur rehman qamar poetry

اپنی آنکھوں میں قمر جھانک کر دیکھوں کیسے
مجھ سے دیکھے ہوئے منظر نہیں دیکھے جاتے


khalil ur rehman qamar poetry

جب بھی تم سے ملتے ہیں ہم
تم ہوتے ہو ہم نہیں ہوتے
بچھڑے رہتے ہیں ہم خود سے
ہوتے ہیں ہر دم نہیں ہوتے


khalil ur rehman qamar poetry

محبت کی دُوری وفاؤں کے دھاگے
اگر ٹوٹ جائیں تو جڑتے نہیں ہیں


khalil ur rehman qamar poetry

تیرے نام پر نفرت لکھ کر
تیرا نام مٹا ڈالیں گے


khalil ur rehman qamar poetry

محبت میں اگر اُمید نہ رہے تو محبت لا علاج مریض کی طرح
طبیب کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ دیتی ہے


  • Allama Iqbal


khalil ur rehman qamar poetry


تم سے بچھڑا ہوں تو رُویا ہوں ورنہ کل تک
رونے والوں کو بھی فنکار کہا کرتا تھا




سوچتا ہوں جسے چاند کہا تھا میں نے
وہ کسی اور کے آنگن میں نکلتا کیوں ہے
کسی نے پائی ہے تیرے قُرب سے دنیاِ حیات
وہ تیری یاد کے موسم میں اکیلا کیوں ہے




سمجھ سکے گا وہ کیا عشق کی کبھی وسعت
کہ سوچ جس کی ابھی ایک دائرے تک ہے



جہاں محبت ہوتی ہے وہاں شک نہیں ہوتا
اور جہاں شک ہوتا ہے وہاں محبت نہیں ہوتی



وقت کو تب میں تیری رفتار کہا کرتا تھا
جب تیرے پیار کو ہی پیار کہا کرتا تھا



بھول جانے کا ہنر مجھ کو سکھاتے جاؤ جا رہے ہو
تو سبھی نقش مٹاتے جاؤ چلو رسمن ہی سہی مڑ کے مجھے دیکھ تو لو



لوگ کسی پہ مر تو جاتے ہیں لیکن کسی کے لئے مرتے نہیں ہیں

   • Parveen Shakir


جو سچے دل سے محبت کرتے ہیں انہیں کوئی دوسرا دکھائی نہیں دیتا



کون چاہے گا محبت کی تباہی لیکن
تم جو چاہو تو خدا اس کو بھی برباد کرے



میں کوئی پاگل ہوں جو ایک بے وقوف لڑکی کے آگے اپنے باپ کی ساری کمائی ہار جاؤں


مجھ سے دامن نہ چھوڑا مجھ کو بچا کر رکھ لے
مجھ سے اک روز تجھے محبت بھی ہو سکتی ہے




خواب پلکوں کی ہتھیلی پہ چُنے رہتے ہیں
کون جانے وہ کبھی نیند چُرانے آئے
مجھ پہ اُترے میرے الہام کی بارش بن کر
مجھ کو اِک بوند سمندر میں چُھپانے آئے
جب میں سنوروں تو وہ گُلنار کرے میرا تبسم
جب میں ہنس دوں تو وہ غُنچہ سہ چٹخنہ چاہے
جب میں تنہا ہوں میرا ہاتھ پکڑ لے آ کر
جب میں چپ ہوں تو وہ بادل سہ برسنا چاہے
میری برسوں کی اداسی کو صِلہ کچھ تو ملے
اس سے کہہ دو وہ میرا قرض چُکانے آئے
وہ میرے کانپتے ہونٹوں کی صدائیں سن لے
یا میرے ضبط کو اظہار کا لہجہ دیدے
یا مجھے توڑ دے اِک گہری نظر سے چُھو کر
یا مجھے چوم کے تخلیق کو سانچا دیدے
میری ترتیب اُٹھا جائے خدا کی مانند
اور مٹ جاؤں تو پھر مجھ کو بنانے آئے
خواب پلکوں کی ہتھیلی پہ چُنے رہتے ہیں
کون جانے وہ کبھی نیند چُرانے آئے




مرد ایک اٹل فطرت کا نام ہے خود کتنا ہی بیوفا کیوں نہ ہو بے وفائی معاف نہیں کرتا

     • Quotes in urdu


میں جب اپنے خدا سے ملوں گا یہ پوچھوں گا
کُن جب پہلی بار کہا تھا
کونسا لفظ ایجاد کیا تھا
دیکھنا اس دن ثابت ہوگا پہلا لفظ محبت ہوگا ( خلیل الرحمان قمر)



خلافِ شرطِ اَنا تھا وہ خواب میں بھی ملے
میں نیند نیند کو ترسا مگر نہیں سویا
خلافِ موسمِ دل تھا کہ تھم گئی بارش
خلافِ حرمتِ غم ہے کہ میں نہیں رُویا



مطلب یہ کہ بھولا نہیں ہوں یہ بھی نہیں کہ یاد آتے ہو
پہلے سب سے پہلے تم تھے اب تم سب کے بعد آتے ہو




بچھڑ گئے تو مُوج اُڑانا واپس میرے پاس نہ آنا
جب کوئی جا کر واپس آئے تڑپے روئے یا پچھتاۓ
میں پھر اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں
گُم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں




اشکِ ناداں سے کہو بعد میں پچھتائیں گے
آپ گِر کر میری آنکھوں سے کدھر جائیں گے
اپنے لفظوں کو تکلُم سے گِرا کر جانا
اپنے لہجے کی تھکاوٹ میں بِکھر جائیں گے
تم سے لے جائیں گے ہم چھین کے وعدے اپنے
ہم تو قسموں کی صداقت سے بھی ڈر جائیں گے
اِک تیرا گھر تھا میری حدِ مُسافت لیکن
اب یہ سوچا ہے کہ ہم حد سے گُزر جائیں گے
اپنے افکار جلا ڈالیں گے کاغذ کاغذ
سوچ مر جائے گی تو ہم آپ بھی مر جائیں گے
اس سے پہلے کہ جدائی کی خبر تم سے ملے
ہم نے سوچا ہے کہ ہم تُم سے بچھڑ جائیں گے
خلیل الرحمن قمر


یاد ہے پہلے روز کہا تھا پھر نہ کہنا غلطی دل کی
پیار سمجھ کے کرنا لڑکی پیار نبھانا ہوتا ہے
پھر پار لگانا ہوتا ہے

یاد ہے پہلے روز کہا تھا

ساتھ چلو تو پورے سفر تک مر جانے کی اگلی خبر تک
سمجھو یار خدا تک ہوگا سارا پیار وفا تک ہوگا
پھر یہ بندھن توڑ نہ جانا چھوڑ گئے تو پھر نہ آنا
چھوڑ دیا جو تیرا نہیں ہے چلا گیا جو میرا نہیں ہے

یاد ہے پہلے روز کہا تھا

یا تو ٹوٹ کے پیار نہ کرنا یا پھر پیٹھ پہ وار نہ کرنا
جب نادانی ہو جاتی ہے نئی کہانی ہو جاتی ہے
نئی کہانی لکھ لاؤں گا اگلے روز میں بِک جاؤں گا
تیرے گُل جب کھل جائیں گے مجھ کو پیسے مل جائیں گے

یاد ہے پہلے روز کہا تھا

بچھڑ گئے تو موج اُڑانا واپس میرے پاس نہ آنا
جب کوئی جاکر واپس آئے روئے تڑپے یا پچھتاے
میں پھر اس کو ملتا نہیں ہوں ساتھ دوبارہ چلتا نہیں ہوں
گُم جاتا ہوں کھو جاتا ہوں میں پتھر کا ہو جاتا ہوں

یاد ہے پہلے روز کہا تھا
خلیل الرحمن قمر




سورتِ حسنِ مقافات نظر آئی ہے
زندگی اب تیری اوقات نظر آئی ہے
اب کہاں ہیں وہ تیری بدمعاشیاں بولو
جب تجھے دن میں تیری رات نظر آئی ہے




کتابِ ظرفِ محبت پہ ہاتھ رکھ کے کہو
سوال جان کا آیا تو وار جائیں گے


  • Tahzeeb Hafi


  • Sagar Poetry


  • Saghar Siddiqui


  • Munir Niazi


  • Parveen Shakir


  • Amjad Islam Amjad


  • Allama Iqbal


  • Khalil Ur Rehman Qamar


  • Mir Taqi Mir


  • Mirza Ghalib

  • Ahmad Faraz

  • Mohsin Naqvi


  • Sad Poetry

  • Urdu Ghazal

  • Urdu Poetry

  • Love Poetry