Phool Poetry



phool poetry


Log karty hain iqrar lamhon mein bhool jaaty hain
Mohabbat nibhate hue phool kitabon mein sookh jaate hain

لوگ کرتے ہیں اقرار لمحوں میں بھول جاتے ہیں
محبت نبھاتے ہوئے پھول کتابوں میں سوکھ جاتے ہیں


phool poetry


khushbu wahi hay wahi hay nazakat wahi hay rang
Mashoq kiya hay phool hay wo bhi gulab ka

خوشبو وہی ہے وہی ہے نزاکت وہی ہے رنگ
 معشوق کیا ہے پھول ہے وہ بھی گُلاب کا


phool poetry


Phool rakh diye tere darvaje per
Aur dastak dekar a gaya hun main

پھول رکھ دیئے تیرے دروازے پر
اور دستک دے کر آگیا ھوں میں


phool poetry


Phool to har rang ke mil jaenge tumhen
Magar har rang se khushboo hamari nahin aaegi

پھول تو ہر رنگ کے مل جائیں گے تمہیں
مگر ہر رنگ سے خوشبو ہماری نہیں آئے گی


phool shayari


Ek phool mohabbat ka khila tha mere dil mein
Aur uska jhukav kisi pathar ki taraf tha

اِک پھول محبت کا کِھلا تھا میرے دل میں
اور اس کا جھکاؤ کسی پتھر کی طرف تھا


phool shayari


Phir nazar mein phool mahake dil mein phir shamein jalin
Phir tasvir ne liya us bazam mein jaane ka naam

پھر نظر میں پھول مہکے دل میں پھر شمعیں جلیں
پھر تصور نے لیا اس بزم میں جانے کا نام


phool shayari


Aap aaoge to phoolon ki barsaat karenge
Mausam ke farishton se meri baat hui hai

آپ آؤ گے تو پھولوں کی برسات کریں گے
موسم کے فرشتوں سے میری بات ہوئی ہے


phool poetry


Phool hay gulab ka husn hay janab ka
Tasveer teri mery dil mein hay kya fayda is naqab ka

پھول ہے گلاب کا حسن ہے جناب کا
تصویر تیری میرے دل میں ہے کیا فائدہ اس نقاب کا



چپکے سے بھیجا تھا پھول انہیں
خشبو نے سارے شہر میں تماشہ بنا دیا



اس نے جب پھول کو چھوا ہوگا
ہوش خوشبو کے اُڑ گئے ہوں گے



مجھ سے نہ مل سکے گا مزاج کسی کا
مجھے تو پھول بھی کالے پسند ہیں



تم یقیناً______ وہاں سے آئی ہو
پھول خوشبو جہاں سے لاتے ہیں



تو کہیں پھول سے بچھڑی ہوئی خوشبو تو نہیں
تیری باتیں بھی ہیں پروین کی نظموں جیسی



اگرچہ پھول یہ اپنے لیے خریدے ہیں
کوئی جو پوچھے تو کہہ دوں گا اس نے بھیجے ہیں


ہوتی ہوگی میرے بوسے کی طلب میں پاگل
جب بھی زلفوں میں کوئی پھول سجاتا ہوگا



تو نے یہ پھول جو زلفوں میں سجا رکھا ہے
اِک دیا ہے جو اندھیروں میں جلا رکھا ہے



عشق میں ہار بھی ممکن ہے مگر بدلے میں
پھول سے چہروں پہ تیزاب نہ ڈالا جائے



وہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئی
مہک میں چمپا کلی __ رُوپ میں چنبیلی ہوئی



تم میرے جسم سے چنو کچھ پھول بیٹھ کر
اور میں تمہارے گالوں پے اِک ِتل بناتا ہوں





Post a Comment

Previous Post Next Post