Urdu Sad Poetry Sms In Urdu Writing

 Urdu Sad Poetry Sms In Urdu Writing





اِنکار کی جو لذت ھے وہ اِقرار میں کہاں
بڑھتا ھے شوق غالبؔ اُن کی نہیں نہیں سے




خوش خط کرکے تمہیں بادل پر لکھا ہے
تمہارے شہر سے گُزرے تو پڑھ لینا




درختوں سے تعلق کا ہُنر تو سیکھ لے انساں
جڑوں میں زخم لگتے ہیں ٹہنیاں سوکھ جاتی ہیں


urdu sad poetry sms in urdu writing


کتنے ستم کرو گے اس ٹوٹے ہوئے دل پر

تھک جاؤ تو ضرور بتانا میرا جُرم کیا تھا


اتنے چہرے تھے اس کے چہرے پر

آئنہ تنگ آ کے ٹوٹ گیا




تھی اس قدر عجیب مُسافت کہ کچھ نہ پوچھ

آنکھیں ابھی سفر میں تھیں اور خواب تھک گئے




مجھے پرکھنا ہو تو میرے پاس چلے آنا

یہ یہاں وہاں کی خبریں تمھیں بدگُمان کریں گی




کہانی نہیں ، زندگی چاہیئے

تجھ سا نہیں ، تُو چاہیئے




تُم جو کہتے ھو کہ ھر بے وفا پہ لعنت ھو

یوں تو پھر آپ کا بھی منہ چُھپانا بنتا ھے



Usay kehna sada mosam baharon k nahi rahty

Tanha sabhi patty bikharty hain hawa jab rakas karti hay


اسے کہنا سدا موسم بہاروں کے نہیں رہتے

تنہا سبھی پتے بکھرتے ہیں ہوا جب رقس کرتی ھے




کسی کو اُجاڑ کر بسے تو کیا بسے

کسی کو رُلا کر ہنسے تو کیا ہنسے



کوئی زنجیر نہیں پھر بھی گرفتار ہیں ھم

کیا خبر تھی کہ تمہیں ہُنر بھی آتا ہے




ھم نے دیا جو گُزرے ہوئے حالات کا حوالہ

اس نے ہنس کر کہا کہ رات گئی بات گئی

 


اپنے بھی تھے اور پرائے بھی تھے میری زندگی کے سفر میں

کچھ ایسے ہی لوگ آئے تھے جو ساتھ تو تھے پر ہم سفر نہ تھے



ہم تو روٹھے تھے کہ وہ خود منا لیں گے اپنا سمجھ کر

ہمکو کیا خبر تھی کہ ان کو بہانا مل جائے گا ہمکو بھول جانے کا



وقت کے ہاتھ سے گر کر ہوئی ریزہ ریزہ

زندگی بکھری کچھ ایسے کہ سمیٹی نہ گئی



چھوڑ دیا اس کا انتظار کرنا ہمیشہ کے لیے__ مرشد

جب رات گزر سکتی ہے تو زندگی بھی گزر جائے گی




ہمیں پتہ ہے کہیں اور کے مسافر ہو

ہمارا شہر تو بس راستے میں پڑتا ہے



Tum zindagi ki wo kami ho Murshid

Jo kabhi poori nahi ho sakti


تم زندگی کی وہ کمی ہو مرشد

جو کبھی پوری نہیں ہو سکتی



اداس نہ رہا کر تیرے مسکان اچھی لگتی ہے

دیدار تو پھر دیدار ہے تیری یاد بھی اچھی لگتی ہے



دیکھا ہے میں نے یہ عالم اس زمانے میں

بہت جلدی تھک جاتے ہیں لوگ رشتے نبھانے میں



کتنے عجیب ہیں نہ لوگ بات پکڑ کر انسان چھوڑ دیتے ہیں



آپ کے کِردار سے مجھے کیا غرض

مجھ سے سوال میری نیت کا ہوگا



میں نے کچھ لمحے خاموش رہ کر دیکھا ہے

میرا نام تک بھول گئے میرے ساتھ چلنے والے



تیری تھوڑی سی دل لگی

میرے دل ___کو جا لگی



لوگ کہتے ہیں کہ پتھر دل کبھی رُویا نہیں کرتے

انہیں کیا خبر پانی کے چشمے ہمیشہ پتھروں سے ہی نکلا کرتے ہیں



سنو مجھے اور کچھ نہیں لینا زمانے کے خزانوں سے

بس اتنی سی خواہش ہے تم میرے ہو کے رہو




سنا ہے شہر میں پھیلی وبا دھیمی نہیں ہوگی

چلو اِک دوسرے کے بازوؤں میں آ کے دم توڑیں




مجھے نہیں مطلب کون کس کے ساتھ کیسا ہے

جو میرے ساتھ اچھا ہے وہ میرے لیے اچھا ہے



Wo diwana kr gaye ek nazar dekh kr

Ham kuch na kr saky bar bar dekh kr


وہ دیوانہ کر گئے اِک نظر دیکھ کر

ہم کچھ نہ کر سکے بار بار دیکھ کر



آپ سے پاکیزگی کا تعلق ھے

آپ تو تہجد کی دعا ہیں میری



بظاہر سادگی سے مسکرا کر دیکھنے والو

کوئی کمبخت ناواقف اگر دیوانہ ہو جائے



زیرِ بحث آئے محبت کی کہانی کسی روز

اور یکلخت ناواقف اگر دیوانہ ہو جائے



کمی نہیں ہے زمانے میں حسینوں کی

مجبور ہیں ہم دل نے چُنا ہے تم کو



لفظوں میں کہاں آتی ہے کیفیت دل کی

جو محسوس جو ہوتا ہے بتایا نہیں جاتا



سڑکوں پہ رات کاٹ لی گھر تو نہیں گئے

تیرے بغیر دیکھ لے مر تو نہیں گئے

یہ کیا تمہارے چہرے کی رنگت بدل گئی

خوش باش ہم کو دیکھ کر ڈر تو نہیں گئے



نہ جانے خوبصورت زندگی کو کس کی نظر لگ گئی

جو لوگ روز بات کرتے تھے وہ آج یاد بھی نہیں کرتے



میرے احباب کی محفل میں تمہارا پوچھا جاتا ہے

یار مجھے ہنستے ہوئے بتانا پڑتا ہے تم چھوڑ گئے



اور آج ہم انتقال کر گئے آپ کے لیے

چاہیں تو سوگ منائیں چاہیں خوشیاں



محبت کی ڈسی ہوئی روحیں کسی کام کی نہیں رہتیں



کسی کے احساسات کو مت توڑیے

احساسات کے ٹوٹنے سے انسان ٹوٹ جاتے ہیں



تجھ سے ملتے ہی وہ کچھ بے باک ہو جانا میرا



بات یہ ہے کہ لوگ بدل گئے ہیں

ظلم یہ ہے کہ وہ مانتے بھی نہیں



اتنا ٹوٹا ہوں کہ چھونے سے بکھر جاؤں گا

اب اگر اور دعا دو گے تو مر جاؤں گا



اِک تم ہی ہو جو دل میں سما گئے ہو

ورنہ کوشش تو ہزاروں نے کی تھی



معشوق ہو حسیں یہ ضروری نہیں مگر

عاشق کو چاہیے کہ وہ اندھا ضرور ہو



تُو نے دیکھی ہی نہیں آنکھ کی بارش ورنہ

تُجھکو برسات سے میری طرح وحشت ہوتی



اور مجھے ساری عمر یہ وہم رہے گا

اسے مجھ سے محبت تھی



بنا کر چھوڑ دیتے ہیں اپنی ذات کا عادی

کچھ لوگ یوں بھی انتقام لیتے ہیں



کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا

میں نے کہا تم کون ہو اس نے کہا آوارگی



الفاظ اشارہ کریں گے جانے کا

تم آنکھ کو دیکھ کر رُک جانا



اٹھی ہی نہیں نگاہ پھر کسی اور طرف

اِک شخص کا دیدار مجھے اتنا پابند کر گیا



تیرے خط آج لطیفوں کی طرح لگتے ہیں

خوب ہنستا ہوں جہاں لفظ وفا آتا ہے



ہاں یاد ہے اس کے کچھ آخری الفاظ

تم میرے بعد محبت کو بھی ترس جاؤ گے



اگر بے عیب چاہو تو فرشتوں سے نباہ کر لو

میں آدم کی نشانی ہوں مجھے انسان رہنے دو



جو ٹل جاتی تھی بلا شام کے بعد

کوئی تو تھا جو دیتا تھا دعا شام کے بعد



منزلوں کی کیا خبر جنہیں راستوں سے عشق ھو



وہ شخص جس سے مجھے بے پناہ محبت ھو

کبھی لباسِ بشر میں مجھے مِلا ہی نہیں



ضد پر آؤں تو اگلی سانس بھی ٹھکرا دوں

پتہ نہیں وہ عشق زادی کس گُمان میں ہے



چار دن کی زندگی تھی

پر اس نے وعدہ کیا بھی تو

پانچویں دن آنے کا



بہت مشکل ہوتا ہے

محبت سے پیچھے ہٹ جانا



جنوں میں شوق کی گہرائیوں سے ڈرتا رہا

میں اپنی ذات کی سچائیوں سے ڈرتا رہا

محبتوں سے شناسا ہوا میں جس دن سے

پھر اس کےبعد شناسائیوں سے ڈرتا رہا

وہ چاہتا تھا کہ تنہا ملوں تو بات کرے

میں کیا کروں میں تنہائیوں سے ڈرتا رہا

میں ریگزار تھا مجھ میں بسے تھے سناٹے

اسی لیے تو میں شہنائیوں سے ڈرتا رہا

میں اپنے باپ کا یوسف تھا اس لیے محسن

سکوں سے سو نہ سکا بھائیوں سے ڈرتا رہا۔